آج خیال آیا کہ کیوں نہ اپنے فارغ اوقات کو ایک اچھے کام میں صرف کیا جائیے اور اپنے پیارے پاکستان کے متعلق اپنی معلومات کے مطابق کچھ لکھا جائے السلامی جمہوریہ پاکستان السلامی جمہوریہ پاکستان مملکت خداداد ہے یعنی ایک ایسا ملک جو خدا کے نام پر حاصل کیا گیااور جو خدا نے اپنے نام پر ہمیں عطا کیا۔رمضان کا مہینہ شب مقدس و قدر بروز جعمرات 14 اگست 1947 کی وہ صبح کتنی مبارک تھی کیسی مقدس تھی رات 12 بجے ہی پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کا اعلان کیا جاچکا تھا ہر چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا ہر چہرہ نور سے روشن تھا ہر نفس آزادی کی نعمت سے لطف اندوز ہو رہا تھااور یوں پاکستان دنیا کے نقشے پر اُبھرنے والی دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست تھی اور اِسکی پہلی رات مقدس ترین رات شب قدر تھی اور پاکستان کا پہلا دن مقدس ترین دن یعنی جمعہ تھا لوگ کہتے ہیں جمہوریت سب سے بڑا انتقام ہے اور میں کہتا ہوں جمہوریت ایک بہت بڑا کرشمہ ہے صرف سات سال کی پر امن تحریک ایک گولی چلائے بغیر ایک قطرہ خون بہائے بغیر صرف جمہوری طریقے سے اپنی جائز بات منوائی گئی ایسے قائد کو پھر کوئی کیسے نہ سلام کرے ہم کتنے بدنصیب لوگ ہیں کہ اِسے اجلے دامن اور مخلص شخص پر بھی الزامات لگاتے خوف نہیں کھاتے دنیا میں آزادی کی کتنی ہی تحریکیں چلی ہیں اور چل رہی ہیں کوئی ایک تحریک ہی ایسی بتادیں کوئی ایک ایسا قائد ہی دکھا دیں ۔ تاریخ کو چھوڑیئے آج جب کہ دنیا گلابل ولج بن چکی ہے لمحے بھر میں ہی خبر دنیا کے کونے کونے تک پہنچ جاتی ہیں کتنی ہی تحریکیں ہیں جو اتنی پر امن ، جمہوری یا اسلامی ہیں۔ کوئی ایک بھی نہیں۔ پاکستان شیخ ڈاکٹر و علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ کا خواب تھاایک ایسا خواب جسے صرف مومن آنکھیں ہی دیکھ سکتی تھی ایک مومن دل ہی ایسی خواہش کر سکتا تھا اور ایک مومن ہی اِس خواہش کو پایا تکمیل تک پہنچا سکتا تھا ورنہ تو اُس وقت بڑے بڑے علماء موجود تھے ، مولانا آزاد، مولاناعبید اللہ سندھی ، مولانا مودودوی ، اور دیگراور اکثریت نے تو پاکستان کی مخالفت کی تھی یہ محمد علی جناح ہی تھے جن پر اقبال رحمۃ اللہ کی نظر پڑی جو کلین شیو تھے جو انگریزی لباس پہنتے تھے جو انگریزی زبان دیسی زبان سے بہتر بولتے تھے مگر مومن دل رکھتے تھے اور اِس کی صالحیت رکھتے تھے کہ اُس تحریک کی قیادت کر سکیں اقبال رحمۃ اللہ جو گھر سے کچہری جانے مین بھی کوفیت محسوس کرتے تھے وہ مھمد علی جناح کو منانے اور مسلمانون کی قیادت سونپنے خود کئی سو میل کا فاصلہ طے کر کے اُنکے پاس گئیے اُنہیں منایا اور تحریک کی قیادت اُن کے ہاتھ سونپ دی اور پھر دنیا نے دیکھا اقبال رحمۃ اللہ کا انتخاب بلکل درست تھا محمد علی جناح ہی وہ شخص تھا جو اِس قافلے کا امیر ہو سکتا تھا اور یہ قافلہ کن کا تھا، مومنین کا تو مومنین کے قافلے کی قیادت کسی مومن کو ہی سونپی جاسکتی ہے غیر مومن یا غیر صالح تو اِس کے اہل ہی نہیں ہیں اسی لیے تو آج ہم لوگ دن بدن تنزلی کا شکار ہیں کیونکہ آج ہماری قیادت غیر صالح لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔ میں چونکہ ادیب نہیں ہوں اورشاید اِسی لیے اپنے اصل موضوع سے ہٹ گیا ہوں اِس لیے اپنے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں۔ پاکستان کی جغرافیائی تاریخ : - پاکستان جب معرض وجود میں آیا تو اُس وقت پاکستان میں اُس وقت پاکستان کے حصے میں بلوچستان سندھ ، سرحد اور پنجاب اور مشرقی پاکستان شامل تھے مگر اُس وقت بلوچستان میں قلات، خاران ، مکران ، گوادر اور لسبیلہ کی ریاستیں شامل نہیں تھی اور یہ موجودہ بلوچستان کے آدھے سے زیادہ رقبہ تھا پنجاب میں بھاولپور کی ریاست بھی شامل نہیں تھی سندھ میں خیر پور نہیں تھااور سرحد میں چترال ہنزہ دیر، نگر ، گلگت و بلتستان اور سوات کی ریاستیں شامل نہیں تھی اِن سب ریاستوں نے بعد میں پاکستان سے الحاق کیا تھا جبکہ موجودہ ہندوستانی گجرات کی ایک ساحلی ریاست جونا گڑھ ہندو اکثریت والی ریاست تھی مگر وہاں کے نواب مہابت خان جی نے شروع ہی سے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا اُس وقت جونا گڑھ کے دیوان سر شاہنواز بھٹو تھے جو مرحوم ذوالفقاربھ ٹو کے والد تھے جونا گڑھ 15 ستمنر 1947 سے 9 نومبر 1947 تک صرف کچھ دن ہی پاکستان کا حصہ رہی بعد میں وہاں ایک مبینہ بغاوت ہوئی جسکے بعد نواب مہابت خان تو بھاگ کر پاکستان آگئے مگر دیوان سر شاہنواز بھٹو نے ہندوستان کی حکومت سے فوجی مدد مانگی جسے پاکستان کی حکومت نے سخت ناپسند کیا گیا بعد میں وہاں ریفرینڈدم کروایا گیا اور صرف 91 ووٹ ہی پاکستان کے حق میں پڑے اور یوں جونا گڑھ ہندوستان کا حصہ قرار پائی
Best view in Firefox Almuslimeen.info | BZU Multan | Dedicated server hosting Note: All trademarks and copyrights held by respective owners. We will take action against any copyright violation if it is proved to us.