View Single Post
  #2  
Old 13-05-2009, 11:45 AM
Foki's Avatar
Foki Foki is offline
Always keep halaal

 
Join Date: May 2009
Location: Lahore
Posts: 360
Contact Number: 0321-8484454
Program / Discipline: Engineering
Class Roll Number: 16D2-208050-I
Foki will become famous soon enoughFoki will become famous soon enough
Send a message via MSN to Foki Send a message via Yahoo to Foki Send a message via Skype™ to Foki
lectures History of Pakistan (Part 2)

پاکستان کی تاریخ - حصہ دوئم
پنجاب :-
آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ، اور رقبے کے لحاظ سے دوسرا بڑا صوبہ ہے جس کا رقبہ 205344 مربع کلومیٹرہے ملک کی تقریبا 48 فیصد آبادی پنجاب میں رہتی ہے اور ملک میں بولی والی زبانوں میں پنجابی کا حصی بھی کم و بیش 48 فیصد ہی ہے۔لفظ پنجاب فارسی کے دو الفاظ کا مجموعہ ہے پنج اور آب، پنج کے معنی پانچ اور آب کے معنی پانی یعنی ایسی سرزمین جسے پانچ بڑے دریا سیراب کرتے ہیں جن کے نام جہلم، ستلج، راوی، بیاس، اور چناب ہیں ۔ لاھور صوبائی دارلخلافہ ہے اور بڑے شہروں ملتان، فیصل آباد، گجرانوالہ، سیالکوٹ، اور راولپنڈی ہیں ۔پنجاب کے اکثر علاقے سردیوں میں کافی ٹھنڈے ہوجاتے ہیں مری مین تو باقاعدہ برف بھی ہوتی ہے اور مون سون کی بارشیں الگ سماں باندھتی ہیں مگر کچھ علاقے انتہائی گرم بھی ہیں جن میں ملتان سرِ فہرست ہے۔
پنجاب میں اسلام کی آمد :-
اسلام سے پہلے پہلے پنجاب میں کئی مذاہب تھے جن میں بدھسٹ ، زرتشتی ، شمنسٹ اور ہندو اکثریت میں تھے 711 عیسوی میں محمد بن قاسم نے سندھ کے ساتھ پنجاب کا بھی کچھ علاقہ فتح کیا ملتان میں تو اُسکی یادگار آج تک موجود ہے اُسکے بعد کچھ عرب مسلمان پنجاب آکر بس گئے مگر اُنکی حالتِ زار اچھی نہیں تھی پھر جب محمود غزنوی نے ہندوستان پر حملے شروع کئے تو ایک بڑی تعداد میں افغان مسلمان اُسکے ساتھ پنجاب آئے مھمود غزنوی نے بھی لاھور ہی کو اپنے مفتوحی علاقوں کا درالخلافہ بنایا تھا اور لاھور ہی میں اپنے گورنر مقرر کئے تھے مگر پھر غزنی کے اندرونی حالات کی وجہ سے اُسے وآپس جانا پڑا۔
پنجاب کی ایک خاصیت یہ بھی رہی ہے کہ اپنی زرخیزی کے سبب یہ خطہ ہمیشہ بیرونی حملہ آورں کے لیے کشش رکھتا رہا ہے، کبھی مقدونی یا یونانی ، کبھی افغان، کبھی مغل، کبھی ترک، اور کبھی ایرانی، ہرطالع آزما نے اپنی سی کوشش کی اور کئی اپنی کوششوں میں کامیاب بھی رہے، اور پنجاب بھی یونانی سلطنت کا حصہ رہا تو کبھی ایرانی، کبھی افغان غالب آئے تو کبھی ترک، کبھی سکھ قابض ہوئے تو کبھی انگریز۔ 1524 ء سے 1539ء تک یہ خطہ مکمل طور پر مغل سلطنت کے زیرِ اثر تھا مغلوں نے بھی لاھور کو ہی پایہ تخت بنائے رکھا آج بھی لاھور میں مغلوں کی بنائی ہوئی کئی عمارتیں موجود ہیں جن میں شالیمار باغ اور بادشاہی مسجد قابل ذکر ہیں۔
مغلوں کے بعد پنجاب پر افغان قابض ہوئے ملتان میں پیدا ہونے والا ایک نوجوان پٹھان احمد شاہ درانی نے 1539ء میں پنجاب پر اپنی حکومت قائم کر لی مگر یہ حکومت زیادہ عرصہ قائم نہ رہی سکی۔
سکھ ازم سولھویں صدی کے ابتداء میں پیدا ہوا اور انتہائی تیزی سے پنجاب میں پھیلا اور 1562 میں سکھ رنجیت سنگ نامی ایک شخص کی قیادت میں پنجاب پر قابض ہوگئے رنجیت سنگھ مہاراجہ رنجیت سنگھ بن گیا۔
1839 میں پجناب انگریزوں کے تسلط میں چلا گیا جو اگست 1947 تک رہا۔
تقسیمِ پنجاب : -
تقسیم ہند کے وقت پنجاب وہ واحد صوبہ تھا جو سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا، مسلمانوں کا خیال تھا کہ مسلم اکثریت والے صوبے پاکستان مین شامل کئے جائینگے اور پورا پنجاب بشمول دہلی پاکستان کا حصہ بنے گا مگر لارڈ ماؤنٹ بیٹن سخت متعصب شخص‌ تھا دراصل وہ ہدوستان کی تقسیم چاہتا ہی نہیں تھا بلکہ خود پورے ہندوستان پر گورنر جنرل بن کر حکومت کرنا چاہتا تھا مگر قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ نے آزادی سے کم کسی شے پر بات کرنے سے ہی انکار کر دیا تو اُس نے اِس کا بدلہ ہندوستان کو نہایت ہی عجیب و غریب طریقے سے تقسیم کر کے لیا پنجاب کی تقسیم بھی مسلم اور غیر مسلم کی شرط پر 1941 کی مردم شماری کے مطابق ہوئی اور یہی نہیں بلکہ اِس تقسیم میں بھی بڑی ڈنڈی ماری گئی ہندو اور سکھ اُسے اپنا گورنر جنرل ماننے کے لیے تیار تھے سو اُس نے زیادہ سے زیادہ علاقہ ہندوستان میں شامل کر لیا۔ پنجاب کی تقسیم پر سکھ سخت مشتعل ہوئے اُن کے لیڈر ماسٹر تارہ سنگھ نے نعرہ لگایا جو مانگے گا پاکستان اُسکو دینگے قبرستان اور پھر اُنہوں نے یہی کیا خون کی ایسی ہولی کھیلی گئی کی جس کی نظیر انسانی تاریخ میں بھی نہیں ملتی مسلمان ہندوؤں کی بنسبت سکھوں کے زیادہ قریب تھے اُنکی زیادہ دوستیاں سکھوں کے ساتھ ہی تھی مگر یہی دوست سب سے برے دشمن بن گئے معصوم اور نہتے لوگوں کو قتل کیا گیا عصمتیں پامال کی گئی اور ایسا کون سا ظلم تھا جو سکھون نے مسلمانوں پر نہیں ڈھایا آج مجھے یہ سوچ کر ہی شرم آتی ہے کہ ہم لوگوں نے اپنی تاریخ سے کوئی سبق نہیں لیا ہم اپنی آزدی کی تقریبات بھی فحش ناچ گانوں اور بے ہودہ رسموں کو ادا کر کے مناتے ہیں اُنہیں ہندوؤں اور سکھوں کے گانوں پر بھنگڑے ڈالتے ہیں کہیں دلیر مہندی چیخ رہا ہوتا ہے تو کہیں کوئی اور سکھ ، آج ہمیں وہ مّصوم بچے یاد نہیں آتے جنہیں ترشولوں اور کرپانوں پر اُچھالا گیا تھا وہ معصوم بہنیں نظر نہیں آتی جن کی عصمتیں ہوس کی شکار ہوئی، کیا یہی آزادی کا مطلب ہے؟ کیا ہع سال صرف 14 اگست کے دن ہی ہم صرف کچھ منٹ اُن ساڑھے چھ لاکھ لوگوں کی یاد میں سوگوار نہیں رہ سکتے؟ کیا ہم قرآنِ پاک کی کچھ آیات پڑھ کر اُن کو ایصالِ ثواب کے لیے بخش نہیں سکتے؟ کیا یہی آزادی ہے؟

__________________
MUHAMMAD FURQAN LATIF CH.

QUICKLINX
WIRELESS

House# 341, Block-H, Hazrat Usman Street, Sabzazar Scheem, Multan Road, Lahore.

Tel: 042-37495200, Fax: 042-37495200, Cell: 0321-848 4454




Reply With Quote