History of Pakistan (Part 3) پاکستان کی تاریخ - حصہ سوئم ریاست بھاولپور :- ریاست بھاولپور1690 ء میں نواب بہادر خان دوئم نے قائم کی تھی اور قیامِ پاکستان کے فورا بعد یعنی 7 اکتوبر 1947 میں سب سے پہلے اِسی ریاست نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تھا مگرباقاعدہ الحاق باقی ریاستوں کے ساتھ 1955ء میں ہی ہوا اور یوں ریاست بھاولپور 14 اکتوبر 1955 سے پاکستان کا حصہ ہے ۔ بھاولپور کم و بیش 46 ہزار مربع کلو میٹر کے رقبہ پر محیط پنجاب کے جنوب میں واقع ہے اور آجکل جنوبی پنجاب کہلاتا ہے مقامی لوگوں کی زبان سرائیکی ہے اردو اور پنجابی بھی بولی جاتی ہے ۔ سندھ :- سندھ دریائے سندھ کی نسبت وادیِ سندھ کہا گیا اور اصل میں سنسکرت کے لفظ سندھو سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں دریا یا کئی دریاؤں کے باہم ملنے والا مقام ، بعد میں آنے والے اہل فارس و عرب نے اپنے مخصوص لہجے میں سند کو ہند اور سندھو کو ہندو کہا اور یہ لفظ پورے برصغیر کے لوگوں کے لیے بولا جانے لگا ساری دنیا کے تاریخ دان اِس بات پر متفق ہیں کہ ہندو ازم کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ یہ کچھ رسمیں ہیں جنہیں مذہب کا نام دے دیا ہے اہل عرب آج بھی تمام برصغیر کے لوگوں کو مذہبی و لسانی تفریق کے بغیر ہندی ہی کہتے ہیں۔ سندھ کا ایک اور نام مہران بھی ہے کی تاریخ سات ہزار سال پرانی ہے پانچ ہزار سال پرانی ایک تہزیب موئنجو ڈرو بھی سندھ میں ہی موجود ہے برصغیر کے اِس خطے کو یہ شرف حاصل ہے کہ 711ء میں یہاں پہلی اسلامی ریاست قائم ہوئی حالانکہ سندھ میں اُس سے پہلے بھی مسلمانوں کی آبادی کے آثار ملتے ہیں مگر باقاعدہ حکومت محمد بن قاسم نے ہی قائم کی تھی اِسی لیے سندھ کو باب الاسلام بھی کہا جاتا ہے کہ ہندوستان میں اسلام سندھ کے راستے داخل ہوا تھا یہاں عموما موسم گرم رہتا ہے مئی اور اگست کے درمیان درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچتا ہے بارشیں کم ہوتی ہے اِس لیے زراعت کا زیادہ دارومدار نہری پانی پر ہے۔ سندھ میں اسلام کی آمد :- سندھ میںپہلی بار اسلامی مداخلت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے زمانے میں ہوئی اُن کے کہنے پر مسلمان فوج کی ایک چھوٹا سا لشکر سندھ کے راستے مکران تک گیا تھا سندھ کے اُس وقت کے راجہ رسل کی فوج اور اسلامی فوج میں تصادم بھی ہوا جس میں مسلمان فاتح ہوئے ہندو فوج قلعہ بند ہوگئی کچھ عرصے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے کہنے پر مسلمان فوج وآپس لوٹ گئی پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں مسلمانون کی ایک اور جماعت سندھ کا حال احوال جاننے کے لیے سندھ میں آئی مگر سندھ میں باقاعدہ اسلامی فوج خلافتِ بنو امیہ کے زمانے میں محمد بن قاسم کی قیادت میں آئی تھی اور سندھ فتح ہو کر خلافتِ اسلامی کا حصہ بن گیا، محمد بن قاسم کے بعد سلطان محمود غزنوی پہلا مسلمان حکمران تھا جس کی فوج سندھ تک پہنچی تھی سلطان کے بعد پھر زمانے گزر گئیے پھر 1592 میں سندھ مغل سلطنت کا حصہ بن گیا، 1943 میں انگریزوں نے سندھ کو فتح کر کے اُسے بمبی پریزیڈنسی کا حصہ بنا دیا ۔ قرادادِ پاکستان اور سندھ : - 1932 میں سندھ کو علیحدہ صوبے کا درجہ ملا اور سندھ کی صوبائی اسملبی برطانوی ہند کی وہ پہلی قانون ساز اسمبلی تھی جس نے قراردادِ پاکستان منظور کی سندھ کے مشہور قوم پرست لیڈر جناب جی ایم سید نے 1938 میں سندھ کی اسمبلی میں قراردادِ پاکستان پیش کی جیسے ایوان نے منظور کر لیا ۔ مہاجرین اور سندھ : - سندھ ہمیشہ سے مہمان نواز رہا ہے تقسیم کے بعد جب لوگ لاکھوں کی تعداد میں ہجرت کرکے پاکستان پہنچے تو سندھ نے اُنہیں خوش آمدید کہا اور اپنے بڑے شہر اُنکے نام کر دئیے تقسیم کے بعد کراچی کو جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر بھی ہے پاکستان کا دارلحکومت بنایا گیا تو اُسے سندھ سے الگ کردیا گیا اور حیدرآباد کو سندھ کا درالخلافہ بنادیا گیا آج بھی کراچی و حیدرآباد میں سندھیون کے بجائے ہندوستان سے آئے ہوئے ہمارے مہاجر بھائی اور دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے لوگوں کی اکثریت ہے ۔ ریاست خیر پور : - ریاست خیر پور بھی باقی ریاستوں کی طرح 1955 مین پاکستان میں شامل ہوئی ریاست خیر پور 1783 میں مغلوں کے زوال کے بعد بنی سہراب خان تالپور نامی ایک سردار نے مگلوں سے ایک وسیع علاقہ چھین کر ریاست کی بنیاد رکھی خیر پور کا رقبہ 15730 مربع کلو میٹر ہے آخری حکمران علی مراد خان تالپور تھے۔ باقی آئیندہ
__________________
MUHAMMAD FURQAN LATIF CH. QUICKLINX WIRELESS House# 341, Block-H, Hazrat Usman Street, Sabzazar Scheem, Multan Road, Lahore.
Tel: 042-37495200, Fax: 042-37495200, Cell: 0321-848 4454 |