اس وقت میرا دل چاہ رپا رہا ہے کہ کاش کہ میں پاکستانی نہ ہوتا اور اگر ہوتا تو کاش کہ پارٹیشن کے وقت ہی سرحد پر دفن ہوگیا ہوتا نہ مجھے سقوط ڈھاکہ کا ذخم چاٹنا پڑتا اور نہ ہی قدم قدم پر موجود ان مردان جمہوریت کے مکروہ عزائم کا سامنا کرنا پڑتا۔
شاید آپ سوچ رہے ہوں کہ ایسا کیا ہوگیا۔ ؟ ، تو سنیے آج ہم نے مغرب کے سامنے ان کے تلوے چا ٹتے ہوئے ایک غلام قوم ہونے کا مزید ثبوت دے دیا۔۔ آج ہم نے ثابت کردیا کہ امریکہ سہی کہتا ہے کہ ہم ڈالر پاور اور اقتدار کے لیے ماں تو کیا پورا خاندان بیچ سکتے ہیں ، کوئی بھی ہمیں ایک گرین کارڈ کی جھلک دکھا کر ہم سے فیملی پیکچ انجوائے کر سکتا ہے
ارے ارے ، آپ کہ چہرے کا رنگ کیوں بدلنے لگا ؟ غصہ آرہاہے ؟؟ جناب یہ اول فول نہیں حقیقت ہے اور اسی لیے کڑوی ہے آج ہمیں بحیثیت قوم اپنے پاکستانی اور جمہوری ہونے پر شرم آنی چاہیے کہ عزت ماب امریکی ریمنڈ ڈیوس ہماری عدلیہ اور اس بے غیرت سسٹم پر لعنت بھیجتا ہوا رہا ہوگیا۔۔۔
کہاں ہیں وہ امن پسند ، کہاں ہیں وہ سلمان تاثیر کے قتل پر اپنی خواتین کو کالا لباس پہنانے والے کہاں ہیں وہ مختاراں مائی کی لٹی عزت کی کمائی کھانے والی این جی اوز ، کہاں ہیں وہ اسلام اسلام کا راگ الاپنے والے ، کہاں ہیں وہ 98 فیصد کے تلوے چاٹ کر دو فیصد کی گردن پر ان کی حقوق کی چھری رکھنے والے ؟ کہاں ہیں وہ جو کل تک سعودیہ میں غیروںکو انصاف انصاف کی دہائی دیتے تھے ، کہاں ہے جو مکے ہلا ہلا کر کمزوروں کو فرعونی لہجے میں ڈراتے تھے ، کہاں ہے وہ جو انصاف کے نام پر کھڑے ہوئے اور مصالحت کی گود میں جا بیٹھے ، کہاں ہیں وہ زمین کے غلام جو آٹھ سال سے دہشت گردی کے چکر میں دہشت پھیلا رہیں ہیں، خیر ان سے شکوہ بھی کیا یہ تو پارٹیز میں اپنی فیملیوں کی تجارت ڈیل کے نام پر کرتے نہیں شرماتے کیوں کہ ان کے نزدیک قومی مفاد پر ذاتیات بھی قربان ، کم از کم ظاہرا تو ایسا ہی ہے ورنہ سب جانتے ہیں خاک کو خاک میں ملانے والے خاکی انسان ہی ہوتے ہیں ، کسی کی کھال خاک کی ہوتی ہے اور کسی کی انا۔
آج ہمیں یہ عزم کرلینا چاہیے کہ ہم کلی طور پر امریکہ کے باج گزار ہیں ، وہ ہمیں قتل کریں ، ہمارے گھروں میں گھسیں ، ہماری خلوت گاہوں میں برہنہ رقص کریں ، ہمیں گاجر کھلائیں ، چھڑی سے بات کریں یا تڑ ی سے ، ہم اف تک نہیں کریں گے ، بھاڑ میں گئی غیرت ملت کی باتیں ویسے بھی عملاً ہمیں غیرت کی نہیں ڈالر کی ضرورت ہے انھیں بھی جو گو گو کرتے ہیں اور انھیں بھی جودو دو کرتے ہیں ، انھیں بھی جو نو گو بناتے ، اور انھیں بھی جو ان کے ساتھ بستے اور ہستے ہیں،
عدلیہ ، کا سورج گہنا نہ جائے اس فیصلے کی تاریکی سے، لیکن نہیں کل بھی یہی ہوگا کوئی ریمنڈ قتل کرے گا،کوئی شمائلہ خودکشی کرے گی اور ہمارا فنی طور پر خراب بے غیرت نظام امن کی فاختہ آڑائے گا، آئے آج بھارت سے باڑدر ختم کریں اور امن کی آشا کا ننگا ناچ گھر گھر شروع کریں ،کیا رکھا ہے اب حیا ، غیرت جیسی دقیانوسی باتوں میں ، آئے کھل کے بے حمیتی کے گیت گائیں امریکہ اور ریمنڈ زندہ بادہ، پاکستانی غیرت۔۔۔ اب آپ خود سمجھدار ہیں ۔۔