
یہ ہے نئی کراچی کا کباڑی بازار جو ہر اتوار کو نارتھ کراچی میں لگتا ہے۔

اس بازار میں روزمرہ کی استعمال شدہ چیزوں میں سے کام کی چیز ڈھونڈنا بھی ایک فن ہے۔

یہاں کچھ بھی بیکار نہیں۔

کراچی کی ایک بڑی غریب آبادی کو یہاں خوشی سستے داموں دستیاب ہے۔

عید قریب ہے اور گھر میں نئے فانوس نہ لگیں؟

چالیس، چالیس، چالیس، انرجی سیور چالیس روپے میں

قید میں ہے بلبل صیاد مسکرائے۔ بلبلیں بکیں گی تو عید کا جوڑا آئے گا۔

جنگلی طوطوں کو افیم کھلا کر خاموش رکھنے کا راز بھی انہی کے پاس ہے۔ اچھا پالتو طوطا دو ہزار تک فروخت ہو جاتا ہے۔

دوپہر میں کھانے کی اشتہا انگیز مہک خریداروں کو اپنی جانب کھینچ رہی ہے۔

مختلف برانڈز کی بوتلیں مگر مشروب ایک ہی۔ اور وہ بھی پانچ روپے میں۔

سنہ بچپن سے یہ کام کر رہا ہوں لیکن نام نہیں بتاؤنگا۔ آپ تو چلے جائیں گے ٹی وی والے تنگ کریں گے; ( بڑے میاں)

سانپ بچھو سانّڈے اور مختلف جانوروں کا تیل اور ادویات۔ مخصوص بیماریوں اور توانائی کے لیے دستیاب۔

ایسا نہیں کہ کباڑی بازار میں سب کچھ کباڑ ہی ہے،امپورٹڈ سامان بھی دستیاب ہے۔

پینٹ شرٹ بیس بیس روپے میں، سودا برا نہیں۔

اور یہ ہیں سونیا جو اپنے لیے جینز خریدنے آئی ہیں۔ کبھی کبھار کوئی تحفہ بھی مل جاتا ہے۔

سمگل شدہ سستے ڈیجیٹل کیمرے بھی اس بازار کی ایک وجہ شہرت ہیں۔

پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق تقریبًا نو کروڑ موبائل صارفین ہیں۔یہ استعمال شدہ بیٹریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ آبادی کا سب سے نچلا طبقہ بھی اس ٹیکنالوجی سے ناآشنا نہیں ہے۔

چین میں بنا یہی چشمہ ملک میں بیس روپے سے لے کر تین سو روپے تک میں بکتا ہے۔

دنیا رنگیں ہے۔ جب سے پہنی آنکھوں پہ خوابوں کی عینک۔