نگاہ فقر ميں شان سکندري کيا ہے
خراج کي جو گدا ہو ، وہ قيصري کيا ہے!
بتوں سے تجھ کو اميديں ، خدا سے نوميدي
مجھے بتا تو سہي اور کافري کيا ہے
---------- Post added at 09:21 PM ---------- Previous post was at 09:19 PM ----------
جوانوں کو مري آہ سحر دے
پھر ان شاہيں بچوں کو بال و پر دے
خدايا! آرزو ميري يہي ہے
مرا نور بصيرت عام کر دے